🏠 Home ← واپس مضامین کی فہرست

علم جعفر کیا ہے؟ مکمل تعارف

علم جعفر روحانی علوم کی ایک قدیم اور روایتی شاخ ہے جو صدیوں سے برصغیر اور عرب دنیا میں رائج ہے۔ اس علم کی بنیاد عربی حروفِ تہجی کے اعداد (ابجد) پر ہے، جن کے ذریعے کسی نام، سوال یا معاملے کا روحانی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی لاکھوں لوگ اپنی زندگی کے مختلف مسائل — چاہے وہ صحت ہو، رشتے ہوں، کاروبار ہو یا کوئی روحانی الجھن — ان کے حل کے لیے علم جعفر کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

علم جعفر کا مطلب

لفظ "جعفر" کا تعلق حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے جوڑا جاتا ہے، جنہیں روایتی طور پر اس علم سے گہری وابستگی رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نسبت کی تاریخی تفصیلات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن "علم جعفر" کی اصطلاح صدیوں سے روحانی حلقوں میں اسی نام سے معروف ہے۔ اس علم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عربی زبان کا ہر حرف ایک مخصوص عدد رکھتا ہے — اسے "ابجد" کہا جاتا ہے — اور انہی اعداد کے حساب کتاب سے روحانی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔

ابجد کا نظام

ابجد دراصل عربی حروفِ تہجی کی ایک قدیم ترتیب ہے جس میں ہر حرف کی ایک عددی قدر مقرر ہے۔ مثال کے طور پر:

اور اسی طرح آگے تک، غین (غ) تک جو 1000 کی قدر رکھتا ہے۔ جب کسی نام یا فقرے کو ابجد کے حساب سے جوڑا جاتا ہے تو ایک مجموعی عدد سامنے آتا ہے، اور اسی عدد کی روشنی میں مختلف طریقوں سے تجزیہ کیا جاتا ہے۔

علم جعفر کی دو بڑی اقسام

روایتی طور پر علم جعفر کو دو بڑے طریقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

1. علم جعفر اخبار — اس طریقے میں سوال کرنے والے کے سوال کے حروف کو ایک خاص ترتیب میں "جعفر گرڈ" یا سیڑھی نما جدول میں سجایا جاتا ہے۔ پھر ایک مخصوص ترتیب (عام طور پر ہر چوتھا حرف) سے کچھ حروف نکالے جاتے ہیں، اور انہی حروف کی روشنی میں سوال کا براہ راست جواب دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر واضح جواب چاہنے والے سوالوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

2. علم جعفر آثار — اس طریقے میں سائل کا نام، والدہ کا نام، دن اور سوال کے ابجد اعداد کو جمع کیا جاتا ہے۔ پھر اس مجموعے کو مختلف اعداد (جیسے 3، 4، 5، 7، 9، 12 یا 28) پر تقسیم کیا جاتا ہے، اور باقی بچنے والے عدد کی روشنی میں نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔ ہر تقسیم کا اپنا ایک مخصوص مقصد ہوتا ہے — مثلاً 4 پر تقسیم مسئلے کی نوعیت بتاتی ہے، جبکہ 7 پر تقسیم دن یا وقت کی نشاندہی کرتی ہے۔

علم جعفر کن مسائل کے لیے استعمال ہوتا ہے؟

لوگ عموماً درج ذیل معاملات میں رہنمائی کے لیے علم جعفر کا سہارا لیتے ہیں:

علم جعفر اور اسلامی تعلیمات

یہ بات ذہن نشین رکھنی ضروری ہے کہ علم جعفر کوئی حتمی یا یقینی علم نہیں بلکہ ایک روایتی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

> "اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، اسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔" (سورۃ الانعام، آیت 59)

اس لیے علم جعفر کو ایک رہنما اشارے کی طرح لینا چاہیے، حتمی فیصلے کی بجائے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے وضو کیا جائے، دل میں اللہ پر مکمل یقین رکھا جائے، اور خالص نیت سے صرف اللہ کی رضا کے لیے رہنمائی مانگی جائے۔ ساتھ ہی، طبی مسائل کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا اور دنیاوی معاملات میں مناسب تدبیر اختیار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

سوال پوچھنے کا صحیح طریقہ

علم جعفر سے بہتر نتیجہ حاصل کرنے کے لیے چند اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے:

1. سوال کرنے سے پہلے وضو کریں

2. تین بار درود شریف پڑھیں

3. دل میں اللہ پر مکمل یقین رکھیں

4. بسم اللہ پڑھ کر سوال لکھیں

5. سوال واضح اور مختصر ہو

6. ایک ہی سوال بار بار نہ دہرائیں

7. غیر اسلامی یا گناہ پر مبنی سوال ہرگز نہ کریں

علم جعفر کا استعمال کرنے والے کون لوگ ہیں؟

علم جعفر کوئی مخصوص طبقے یا علاقے تک محدود نہیں۔ برصغیر پاک و ہند، مشرق وسطیٰ، اور دنیا بھر میں پھیلے مسلمان کمیونٹیز میں یہ علم صدیوں سے رائج رہا ہے۔ روایتی طور پر یہ علم عاملین، روحانی اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہا، اکثر ہاتھ سے لکھی کتابوں اور استاد و شاگرد کے رشتے کے ذریعے۔ آج بھی دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں لوگ اپنی زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی کے لیے اس علم کا سہارا لیتے ہیں، چاہے وہ تعلیم یافتہ ہوں یا نہ ہوں۔

علم جعفر اور دیگر روحانی علوم میں فرق

علم جعفر کو اکثر دیگر روحانی علوم جیسے علمِ نجوم، علمِ رمل یا استخارہ سے خلط ملط کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ان سب کے اپنے الگ اصول اور طریقہ کار ہیں۔ علمِ نجوم ستاروں اور سیاروں کی گردش پر مبنی ہے، علمِ رمل ریت یا نقطوں کی ترتیب پر، جبکہ استخارہ ایک خالص دعائیہ عمل ہے جس میں کسی حساب کتاب کی ضرورت نہیں۔ علم جعفر کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ خالصتاً عربی حروف اور ان کی عددی قدروں پر قائم ہے، اور اس کا تعلق براہ راست قرآنی زبان اور اسمائے الٰہی سے جوڑا جاتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا علم جعفر سیکھنا مشکل ہے؟

جواب: بنیادی تصور — ابجد اعداد اور تقسیم کا اصول — سمجھنا نسبتاً آسان ہے، لیکن روایتی طور پر اسے مکمل مہارت کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے برسوں کی تربیت اور کسی استاد کی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ آج جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عام لوگ بھی اس کے نتائج تک فوری رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

سوال: کیا ہر عالم دین علم جعفر پر یقین رکھتا ہے؟

جواب: نہیں، علماء کی اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ اسے ایک جائز روایتی روحانی علم سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ اسے احتیاط سے دیکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اسی لیے ہمیشہ اسے رہنما اشارے کے طور پر لینا چاہیے، حتمی مذہبی فتویٰ کے طور پر نہیں۔

سوال: کیا بغیر عربی جانے علم جعفر سمجھا جا سکتا ہے؟

جواب: جی ہاں۔ اگرچہ حساب کتاب عربی حروف پر مبنی ہے، لیکن نتائج اور تشریحات اردو، انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں میں آسانی سے سمجھی جا سکتی ہیں، جیسا کہ آج کی جدید سہولیات میں فراہم کیا جاتا ہے۔

نتیجہ

علم جعفر ایک ایسا روایتی روحانی علم ہے جو ابجد کے اعداد کے ذریعے انسان کو اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ چاہے وہ علم جعفر اخبار ہو یا آثار، دونوں طریقے صدیوں کے تجربے اور روایت پر مبنی ہیں۔ تاہم ہمیشہ یاد رکھیں کہ حتمی فیصلہ اور علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے پاس ہے، اور یہ علم محض ایک رہنما ذریعہ ہے، نہ کہ یقینی پیش گوئی۔ صحیح نیت، صبر اور دعا کے ساتھ اس علم سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔