علم جعفر کی دو مشہور اقسام میں سے "علم جعفر اخبار" سب سے قدیم اور روایتی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر ایسے سوالوں کے لیے موزوں ہے جن کا واضح، براہ راست جواب درکار ہو۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ علم جعفر اخبار کس طرح کام کرتا ہے اور اس کے پیچھے کیا اصول کارفرما ہیں۔
علم جعفر اخبار کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ کسی سوال کے الفاظ میں چھپے حروف، جب ایک خاص ترتیب سے ترتیب دیے جائیں، تو ان میں سے کچھ مخصوص حروف نکل کر سوال کا جواب واضح کرتے ہیں۔ اس عمل میں سوال کے تمام حروف کو ایک "جعفر گرڈ" یا سیڑھی نما جدول میں لکھا جاتا ہے۔
سب سے پہلے سائل اپنا سوال اردو یا عربی رسم الخط میں لکھتا ہے۔ سوال جتنا واضح اور مختصر ہو، نتیجہ اتنا ہی درست سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر: "کیا میری نوکری میں ترقی ہوگی؟" یا "کیا میرا رشتہ کامیاب ہوگا؟"۔
سوال کے ہر لفظ کے حروف الگ الگ نکالے جاتے ہیں۔ اعراب، اعداد اور علامات (جیسے سوالیہ نشان) کو شمار نہیں کیا جاتا، صرف خالص حروف لیے جاتے ہیں۔ ہر لفظ کے حروف کو ایک نئی قطار میں لکھا جاتا ہے، اور اس طرح ایک سیڑھی نما شکل بنتی ہے جہاں ہر اگلی قطار پچھلی سے ایک خانہ آگے شروع ہوتی ہے۔
یہ سیڑھی نما ترتیب ہی دراصل "جعفر گرڈ" کہلاتی ہے۔ اس گرڈ میں تمام حروف کو کالموں کے حساب سے شمار کیا جاتا ہے — یعنی اوپر سے نیچے، ایک کالم کے بعد دوسرا کالم۔ اس ترتیب سے حروف کو ایک نئی لڑی میں پرویا جاتا ہے۔
روایتی اصول کے مطابق، اس نئی ترتیب میں سے ہر چوتھا حرف نکالا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل کو بعض اوقات "چوتھے حرف کا طریقہ" بھی کہا جاتا ہے۔ نکالے گئے حروف کو ایک نئے لفظ یا لفظوں کی شکل میں جمع کیا جاتا ہے، اور یہی حروف آگے تجزیے کی بنیاد بنتے ہیں۔
نکالے گئے حروف کے ابجد اعداد کو جمع کیا جاتا ہے، جس سے ایک مجموعی عدد حاصل ہوتا ہے۔ یہ عدد اور نکالے گئے حروف دونوں مل کر روحانی تجزیے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اب حاصل شدہ حروف اور ان کے معنی و مناسبت کی روشنی میں سوال کا جواب مرتب کیا جاتا ہے۔ ہر حرف کی اپنی ایک روحانی نسبت ہوتی ہے — مثلاً بعض حروف رحمت اور آسانی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بعض آزمائش یا صبر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انہی معنوں کو ملا کر سوال کا مربوط جواب تیار کیا جاتا ہے، جس میں عام طور پر دو حصے شامل ہوتے ہیں: پہلا، سوال کا براہ راست جواب؛ دوسرا، اس کیفیت کے لیے مناسب وظیفہ یا دعا۔
علم جعفر اخبار خاص طور پر ان سوالوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے جن کا جواب "ہاں" یا "نہیں" کی نوعیت کا ہو، یا جن میں کسی خاص واقعے کے بارے میں فوری رہنمائی درکار ہو۔ مثلاً:
اس طریقے کو استعمال کرتے وقت چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، سوال صاف نیت اور خالص دل سے پوچھا جائے۔ دوسرا، ایک ہی سوال بار بار نہ دہرایا جائے کیونکہ اس سے نتیجہ متاثر ہو سکتا ہے۔ تیسرا، سوال کرنے سے پہلے وضو اور درود شریف پڑھنا مستحسن سمجھا جاتا ہے۔ چوتھا، اور سب سے اہم، یہ ہمیشہ ذہن میں رکھا جائے کہ حتمی علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور یہ طریقہ محض ایک روایتی رہنمائی ہے۔
آج کے دور میں یہ پیچیدہ حسابی عمل جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چند سیکنڈوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ صارف صرف اپنا نام، والدہ کا نام اور سوال لکھتا ہے، اور نظام خود بخود جعفر گرڈ بنا کر متعلقہ حروف نکال دیتا ہے۔ اس سے یہ روایتی علم عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہو گیا ہے، بغیر اس کی روایتی بنیادوں سے ہٹے۔
فرض کریں سائل کا نام "علی" اور والدہ کا نام "زینب" ہے، اور سوال ہے: "کیا کاروبار میں فائدہ ہوگا؟"۔ سب سے پہلے نام اور سوال کے تمام حروف کو ایک ساتھ سیڑھی نما ترتیب میں لکھا جاتا ہے۔ پھر کالم وار شمار کر کے ایک نئی لڑی بنائی جاتی ہے، اور اس میں سے ہر چوتھا حرف نکال کر ایک نیا مجموعہ تیار کیا جاتا ہے۔ ان نکالے گئے حروف کے ابجد اعداد جمع کر کے ایک حتمی عدد حاصل ہوتا ہے، جسے پھر روایتی جدولوں سے ملا کر تشریح کی جاتی ہے۔ اسی تشریح کی بنیاد پر سائل کو بتایا جاتا ہے کہ آیا کاروبار میں فائدہ ہوگا یا ابھی مزید محنت اور صبر کی ضرورت ہے، ساتھ ہی اس کے لیے موزوں وظیفہ بھی تجویز کیا جاتا ہے۔
بہت سے لوگ ایک ہی نشست میں کئی سوالات اکٹھے پوچھنا چاہتے ہیں، لیکن روایتی اصول کے مطابق ہر سوال کے لیے الگ گرڈ اور الگ حساب کتاب ضروری ہے۔ اگر ایک ہی سوال میں کئی موضوعات ملا دیے جائیں (مثلاً "کیا نوکری اور شادی دونوں ٹھیک ہوں گے؟")، تو حروف کی ترتیب الجھ جاتی ہے اور نتیجہ غیر واضح ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہمیشہ ایک وقت میں ایک ہی، صاف اور مختصر سوال پوچھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
سوال: اگر سوال کے حروف کم ہوں تو کیا گرڈ صحیح بنتا ہے؟
جواب: جی ہاں، مختصر سوالات کے لیے بھی گرڈ بنایا جا سکتا ہے، تاہم بہت زیادہ مختصر سوال (جیسے صرف ایک لفظ) سے نتیجہ کی گہرائی محدود ہو سکتی ہے۔ اسی لیے سوال کو مکمل جملے کی صورت میں لکھنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔
سوال: کیا نام کے بغیر بھی یہ طریقہ استعمال ہو سکتا ہے؟
جواب: روایتی طریقہ کار میں سائل کا نام اور والدہ کا نام شامل کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ نتیجے کو سائل کی ذاتی شناخت سے جوڑتا ہے اور تجزیہ زیادہ مخصوص بناتا ہے۔
سوال: کیا ایک ہی سوال کو مختلف اوقات میں دہرانے سے مختلف جواب آ سکتا ہے؟
جواب: چونکہ حساب کتاب فکسڈ ابجد اعداد پر مبنی ہے، بنیادی نتیجہ عام طور پر ایک جیسا رہتا ہے۔ تاہم بار بار دہرانا مناسب نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ روایتی اصول کے مطابق ایک سوال ایک ہی بار خلوصِ نیت سے پوچھنا چاہیے۔
علم جعفر اخبار ایک منظم اور روایتی طریقہ ہے جو سوال کے حروف کو ایک خاص ترتیب سے پرکھ کر جواب اخذ کرتا ہے۔ یہ عمل صدیوں پرانی روایت پر مبنی ہے، اور آج بھی لوگ اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں رہنمائی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اسے ہمیشہ ایک معاون ذریعے کے طور پر دیکھنا چاہیے، حتمی فیصلے کی بنیاد کے طور پر نہیں، اور اصل بھروسہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہیے۔