🏠 Home ← واپس مضامین کی فہرست

جعفر گرڈ کیسے بنتا ہے؟

علم جعفر اخبار کے پورے نظام کی بنیاد ایک خاص جدول پر ہے جسے "جعفر گرڈ" کہا جاتا ہے۔ یہ گرڈ ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے سوال کے حروف کو ایک نئی ترتیب میں پرو کر ان میں سے مخصوص حروف نکالے جاتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ یہ گرڈ کیسے بنایا جاتا ہے اور اس کی ساخت کے پیچھے کیا منطق کارفرما ہے۔

سیڑھی نما ترتیب کا اصول

جعفر گرڈ دراصل ایک سیڑھی نما جدول ہے، جہاں سوال کا ہر لفظ ایک نئی قطار میں لکھا جاتا ہے، اور ہر نئی قطار پچھلی قطار سے ایک خانہ آگے شروع ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر سوال تین الفاظ پر مشتمل ہو، تو پہلا لفظ پہلی قطار کے شروع سے لکھا جائے گا، دوسرا لفظ دوسری قطار میں ایک خانہ چھوڑ کر شروع ہوگا، اور تیسرا لفظ تیسری قطار میں دو خانے چھوڑ کر شروع ہوگا۔ اس طرح ایک سیڑھی نما شکل بن جاتی ہے جس میں خالی خانے اور حروف والے خانے دونوں شامل ہوتے ہیں۔

گرڈ کی چوڑائی اور لمبائی کا تعین

گرڈ کی قطاروں کی تعداد سوال میں موجود الفاظ کی تعداد کے برابر ہوتی ہے۔ جبکہ کالموں کی تعداد کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ سب سے آخری لفظ، اپنی نشست اور اپنی لمبائی کو ملا کر، کتنے خانے تک پہنچتا ہے۔ یعنی اگر آخری لفظ تین خانے چھوڑ کر شروع ہو اور خود پانچ حروف کا ہو، تو گرڈ کی کل چوڑائی آٹھ خانوں کی ہوگی۔ باقی تمام قطاروں میں بچ جانے والے خانے خالی (سپیس) تصور کیے جاتے ہیں۔

حروف کی گنتی کا طریقہ

گرڈ مکمل بننے کے بعد، حروف کو کالم وار شمار کیا جاتا ہے — یعنی سب سے پہلے پہلے کالم کے تمام حروف اوپر سے نیچے تک، پھر دوسرے کالم کے حروف، اور اسی طرح آخری کالم تک۔ خالی خانوں کو اس گنتی میں شامل نہیں کیا جاتا، صرف وہ خانے شمار ہوتے ہیں جن میں کوئی حرف موجود ہو۔ اس عمل سے حروف کی ایک بالکل نئی ترتیب بن جاتی ہے جو اصل سوال کی ترتیب سے مختلف ہوتی ہے۔

چوتھے حرف کا انتخاب

نئی ترتیب مکمل ہونے کے بعد، اس میں سے ہر چوتھا حرف الگ کیا جاتا ہے۔ یہ عمل تسلسل سے آخری حرف تک جاری رہتا ہے۔ اگر مجموعی حروف کی تعداد چار کے صحیح مضاعف پر ختم نہ ہو، تو آخری چند بچ جانے والے حروف کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے تاکہ کوئی حرف رہ نہ جائے۔ اس طرح جو حروف منتخب ہوتے ہیں، وہی آگے کے تجزیے کی بنیاد بنتے ہیں۔

گرڈ کی مثال

فرض کریں سوال یہ ہے: "کیا نوکری ملے گی" — اس میں تین الفاظ ہیں۔ پہلا لفظ "کیا" پہلی قطار میں، دوسرا لفظ "نوکری" دوسری قطار میں ایک خانہ آگے، اور تیسرا لفظ "ملے گی" تیسری قطار میں دو خانے آگے لکھا جائے گا۔ اس طرح تینوں قطاریں مل کر ایک سیڑھی نما شکل بناتی ہیں، اور اسی سے حروف کی گنتی شروع ہوتی ہے۔

گرڈ بنانے میں احتیاط

گرڈ بناتے وقت چند باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ صرف خالص عربی/اردو حروف ہی شمار کیے جاتے ہیں — اعراب (زیر، زبر، پیش)، ہمزہ کی علامات، اور رموزِ اوقاف (جیسے سوالیہ نشان) کو شمار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح انگریزی الفاظ یا ہندسے بھی اس عمل میں شامل نہیں کیے جاتے۔ یہ احتیاط اس لیے ضروری ہے کہ گرڈ کی درستگی پورے تجزیے کی بنیاد ہے — اگر گرڈ میں غلطی ہو تو نکالے گئے حروف بھی درست نہیں ہوں گے۔

ٹیکنالوجی کا کردار

ماضی میں یہ پورا عمل ہاتھ سے کاغذ پر کیا جاتا تھا، جس میں کافی وقت اور مہارت درکار ہوتی تھی۔ آج کل جدید نظام یہ پورا حساب خودکار طریقے سے چند لمحوں میں مکمل کر دیتے ہیں۔ صارف صرف اپنا سوال لکھتا ہے، اور نظام خود بخود گرڈ بنا کر، حروف شمار کر کے، چوتھا حرف نکال کر نتیجہ پیش کر دیتا ہے۔ اس سے روایتی طریقہ اپنی اصل بنیاد پر قائم رہتے ہوئے بھی زیادہ آسان اور تیز ہو گیا ہے۔

گرڈ کی مختلف اقسام

روایتی روحانی حلقوں میں جعفر گرڈ بنانے کے کچھ مختلف طریقے بھی رائج ہیں، جو علاقے اور استاد کی روایت کے مطابق تھوڑا مختلف ہو سکتے ہیں۔ کچھ روایات میں گرڈ کو دائیں سے بائیں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ میں اوپر سے نیچے۔ کچھ عاملین صرف سوال کے حروف استعمال کرتے ہیں، جبکہ کچھ سائل کے نام کو بھی گرڈ میں شامل کرتے ہیں تاکہ نتیجہ زیادہ ذاتی نوعیت کا ہو۔ ان تمام فرقوں کے باوجود، بنیادی اصول ایک ہی رہتا ہے — حروف کو ایک نئی ترتیب دے کر ان میں پوشیدہ معنی تلاش کرنا۔

ہاتھ سے گرڈ بنانے کا طریقہ

اگرچہ آج زیادہ تر لوگ خودکار سہولیات استعمال کرتے ہیں، لیکن روایتی طور پر یہ گرڈ کاغذ اور قلم سے بنایا جاتا تھا۔ اس کے لیے ایک صاف کاغذ پر خانوں کا ایک جدول بنایا جاتا، پھر سوال کے ہر لفظ کو الگ قطار میں، سیڑھی نما انداز میں لکھا جاتا۔ اس عمل میں دقت اور مہارت درکار ہوتی تھی، اور اکثر تجربہ کار عاملین ہی اسے درست طریقے سے انجام دے پاتے تھے۔ آج بھی کچھ روایتی عاملین اسی ہاتھ سے لکھنے والے طریقے کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ نتیجہ وہی رہتا ہے جو خودکار نظام دیتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا گرڈ بناتے وقت زبان کا کوئی خاص انتخاب ضروری ہے؟

جواب: روایتی طور پر عربی رسم الخط استعمال ہوتا ہے، لیکن اردو رسم الخط میں لکھے گئے سوالات بھی چونکہ عربی حروف پر مبنی ہیں، اس لیے وہی نتیجہ دیتے ہیں۔

سوال: اگر سوال میں انگریزی الفاظ شامل ہوں تو کیا ہوگا؟

جواب: چونکہ ابجد نظام صرف عربی حروف پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ سوال مکمل طور پر اردو یا عربی رسم الخط میں لکھا جائے تاکہ گرڈ درست طریقے سے بن سکے۔

سوال: کیا گرڈ کا سائز سوال کی لمبائی پر منحصر ہے؟

جواب: جی ہاں، سوال جتنا طویل ہوگا، گرڈ اتنا ہی بڑا بنے گا۔ تاہم بہت لمبے سوالات سے نتیجہ الجھن کا شکار ہو سکتا ہے، اس لیے سوال کو مختصر اور جامع رکھنا بہتر ہے۔

گرڈ اور تجزیے کا تعلق

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گرڈ خود جواب نہیں دیتا، بلکہ یہ صرف وہ ذریعہ ہے جس سے مخصوص حروف نکالے جاتے ہیں۔ اصل روحانی تجزیہ ان نکالے گئے حروف کے معنی، ان کی عددی قدر، اور سوال کے سیاق و سباق کو ملا کر کیا جاتا ہے۔ اسی لیے دو مختلف عاملین ایک جیسا گرڈ بنا کر بھی تشریح میں تھوڑا فرق رکھ سکتے ہیں، کیونکہ تشریح کا انحصار عامل کے تجربے اور روایتی علم پر بھی ہوتا ہے۔ جدید خودکار نظام اس عمل کو معیاری بنا کر ہر صارف کو یکساں اور مستقل طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔

نتیجہ

جعفر گرڈ علم جعفر اخبار کے پورے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کی سیڑھی نما ساخت، حروف کی کالم وار گنتی، اور چوتھے حرف کے انتخاب کا مجموعہ ہی وہ عمل ہے جس سے سوال کا جواب اخذ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل بظاہر پیچیدہ لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک منظم اور مستقل منطق کارفرما ہے جو صدیوں سے اسی طرح چلی آ رہی ہے۔