🏠 Home ← واپس مضامین کی فہرست

چوتھا حرف کیوں اہم ہے؟

علم جعفر اخبار کے طریقے میں "چوتھے حرف" کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے طریقہ کار کو بعض روایتی حلقوں میں "چوتھے حرف کا طریقہ" بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چوتھا حرف ہی کیوں منتخب کیا جاتا ہے، پانچواں یا تیسرا کیوں نہیں؟ اس مضمون میں ہم اسی سوال کا جائزہ لیں گے۔

عدد چار کی روایتی اہمیت

روایتی روحانی علوم میں عدد 4 کو ایک بنیادی اور مکمل عدد سمجھا جاتا ہے۔ قدیم فلسفے میں چار عناصر — آتش، آب، خاک اور ہوا — کائنات کی بنیاد سمجھے جاتے تھے، اور ہر چیز انہی چار بنیادی حالتوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتی تھی۔ اسی مناسبت سے علم جعفر میں بھی عدد 4 کو ایک مکمل دائرہ تصور کیا جاتا ہے، اور اسی بنیاد پر ہر چوتھے حرف کو گرڈ سے نکالنے کی روایت قائم ہوئی۔

مکمل دائرے کا اصول

روایتی نقطہ نظر کے مطابق، جب حروف کو گنتے ہوئے ہر چوتھے حرف کو الگ کیا جاتا ہے، تو گویا ہر بار ایک "مکمل دائرہ" طے ہوتا ہے۔ اس اصول کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ ہر چار حروف مل کر ایک روحانی اکائی بناتے ہیں، اور اس اکائی سے نکلنے والا آخری (چوتھا) حرف اس اکائی کے جوہر یا نچوڑ کی نمائندگی کرتا ہے۔

چھلنی کا عمل

چوتھے حرف کے انتخاب کو ایک طرح کی روحانی "چھلنی" بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سوال کے تمام حروف کو ایک بڑے مجموعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور اس چھلنی کے عمل سے صرف وہی حروف باقی رہ جاتے ہیں جو، روایتی عقیدے کے مطابق، سب سے زیادہ معنی خیز اور جواب سے قریب تر سمجھے جاتے ہیں۔ باقی تین حروف کو "معاون" یا "تمہیدی" حروف تصور کیا جاتا ہے جو صرف چوتھے حرف تک پہنچنے کا راستہ بناتے ہیں۔

نتیجے کی درستگی پر اثر

چونکہ پورا نتیجہ چوتھے حرف کے انتخاب پر منحصر ہوتا ہے، اس لیے گرڈ کی درستگی نہایت اہم ہے۔ اگر گرڈ بناتے وقت کوئی حرف چھوٹ جائے یا غلط جگہ لکھا جائے، تو چوتھے حرف کی گنتی بھی متاثر ہو جائے گی، اور نتیجتاً غلط حروف نکل آئیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی عاملین اس عمل کو نہایت احتیاط اور توجہ سے انجام دیتے تھے، اور آج جدید نظام بھی اسی درستگی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آخری بچ جانے والے حروف کا معاملہ

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سوال کے کل حروف کی تعداد چار کے صحیح مضاعف پر ختم نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں، روایتی اصول کے مطابق، آخری بچ جانے والے حروف کو بھی شمار میں شامل کر لیا جاتا ہے، چاہے وہ عین چوتھے نمبر پر نہ آئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوال کے آخری حروف کو، خاص طور پر جو حروف "بند" (اختتامی) حیثیت رکھتے ہیں، خاص روحانی اہمیت دی جاتی ہے۔

چوتھے حرف کا تعلق معنی سے

نکالے گئے چوتھے حروف کو محض اعداد کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ہر حرف کی اپنی ایک روایتی معنوی نسبت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بعض حروف رحمت، برکت یا آسانی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بعض حروف آزمائش یا تاخیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جب کئی چوتھے حروف مل کر ایک لفظ یا فقرہ بناتے ہیں، تو ان کے مجموعی معنی سے ہی سوال کا جواب ترتیب دیا جاتا ہے۔

کیا صرف عدد چار ہی استعمال ہوتا ہے؟

اگرچہ علم جعفر اخبار میں روایتی طور پر چوتھا حرف ہی نکالا جاتا ہے، لیکن علم جعفر کی دوسری قسم — یعنی علم جعفر آثار — میں مختلف اعداد (جیسے 3، 5، 7، 9، 12 یا 28) پر تقسیم کا طریقہ استعمال ہوتا ہے، جہاں ہر عدد کا اپنا الگ مقصد اور معنی ہوتا ہے۔ یعنی عدد 4 خاص طور پر "اخبار" کے طریقے سے جڑا ہوا ہے، جبکہ "آثار" کا طریقہ کہیں زیادہ متنوع اعداد استعمال کرتا ہے۔

کیا ہمیشہ چوتھا حرف ہی استعمال ہوتا ہے؟

اگرچہ "چوتھے حرف کا طریقہ" علم جعفر اخبار کی سب سے معروف اور رائج شکل ہے، لیکن کچھ روایتی مکاتبِ فکر میں تیسرے یا پانچویں حرف کے انتخاب کی روایات بھی ملتی ہیں۔ یہ فرق زیادہ تر علاقائی روایت اور استاد کی تعلیم پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم عدد 4 کا انتخاب سب سے زیادہ رائج اور مستند سمجھا جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر جدید سہولیات اسی روایتی طریقے کی پیروی کرتی ہیں۔

عدد 4 کی علامتی اہمیت

روایتی روحانی فکر میں عدد 4 کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اسلامی روایت میں چار عناصر (آتش، آب، خاک، باد) کا تصور موجود ہے، جو مادی دنیا کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح چار جہتیں (مشرق، مغرب، شمال، جنوب) بھی مکمل دائرے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ علم جعفر میں عدد 4 کا انتخاب اسی مکمل اور متوازن تصور سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے — یعنی چار قدموں کے بعد ایک مکمل دائرہ مکمل ہوتا ہے، اور اسی مکمل دائرے سے حاصل ہونے والا حرف زیادہ بامعنی سمجھا جاتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: اگر گرڈ میں حروف کی تعداد 4 سے کم ہو تو کیا ہوگا؟

جواب: ایسی صورت میں روایتی عاملین مختلف طریقے اپناتے ہیں — کچھ دستیاب حروف میں سے آخری حرف لیتے ہیں، جبکہ کچھ سوال کو تھوڑا طویل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ گرڈ میں کافی حروف موجود ہوں۔

سوال: کیا چوتھے حرف کے علاوہ باقی حروف بالکل بے کار ہوتے ہیں؟

جواب: نہیں، باقی حروف بھی گرڈ کی مجموعی ساخت میں کردار ادا کرتے ہیں، لیکن حتمی جواب کے لیے صرف چوتھے حرف کی لڑی کو منتخب کیا جاتا ہے کیونکہ روایتی اصول کے مطابق یہی سب سے زیادہ روحانی مناسبت رکھتی ہے۔

سوال: کیا یہ اصول قرآن یا حدیث سے ماخوذ ہے؟

جواب: یہ ایک صدیوں پرانی روحانی روایت ہے جو علم جعفر کے بانیوں سے منسوب کی جاتی ہے، براہ راست قرآن یا حدیث کا حصہ نہیں، بلکہ ایک اجتہادی اور تجرباتی روایت سمجھی جاتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔

دیگر روایتی علوم میں عدد 4 کا کردار

یہ دلچسپ بات ہے کہ عدد 4 صرف علم جعفر ہی نہیں بلکہ کئی دیگر روایتی علوم میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ علمِ طب یونانی میں چار اخلاط (خون، بلغم، صفراء، سودا) کا تصور ہے، اسلامی فقہ میں چار مکاتبِ فکر (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) معروف ہیں، اور روایتی فلکیات میں بھی چار بنیادی سمتوں کا حوالہ ملتا ہے۔ یہ مماثلتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عدد 4 کو روایتی فکر میں ایک مکمل، متوازن اور جامع عدد سمجھا جاتا رہا ہے، اور علم جعفر میں اس کا انتخاب اسی وسیع تر روایتی فکر کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جو مختلف علوم کو ایک مشترکہ فکری بنیاد سے جوڑتا ہے۔

نتیجہ

چوتھے حرف کا انتخاب علم جعفر اخبار کے پورے نظام کی جان ہے۔ عدد 4 کی روایتی اہمیت، مکمل دائرے کا تصور، اور چھلنی جیسا عمل — یہ سب مل کر اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ آخر یہ خاص عدد ہی کیوں منتخب کیا گیا۔ اگرچہ جدید دور میں یہ حساب سیکنڈوں میں مکمل ہو جاتا ہے، لیکن اس کے پیچھے صدیوں پرانی روایت اور فکر آج بھی اتنی ہی زندہ ہے جتنی پہلے تھی۔