🏠 Home ← واپس مضامین کی فہرست

ابجد کے اعداد اور ان کے حروف

علم جعفر کا پورا نظام "ابجد" کے حساب پر کھڑا ہے۔ بغیر ابجد کو سمجھے، نہ علم جعفر اخبار کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی علم جعفر آثار کو۔ اس مضمون میں ہم ابجد کے نظام، اس کی تاریخ، اور اس کے حساب کتاب کو تفصیل سے دیکھیں گے۔

ابجد کیا ہے؟

ابجد دراصل عربی حروفِ تہجی کی ایک قدیم ترتیب ہے جس میں اٹھائیس حروف کو ایک مخصوص عددی قدر دی گئی ہے۔ یہ ترتیب اس قدر قدیم ہے کہ اسلام سے پہلے کے دور میں بھی عرب اسی نظام کو حساب کتاب اور اعداد لکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے، اسی طرح جیسے آج ہم رومن ہندسے (I, V, X) استعمال کرتے ہیں۔

ابجد کی مکمل فہرست

ابجد کے حروف اور ان کی اقدار روایتی طور پر مندرجہ ذیل ترتیب میں یاد کی جاتی ہیں: ابجد، ہوز، حطی، کلمن، سعفص، قرشت، ثخذ، ضظغ۔ اس ترتیب میں حروف کی اقدار یہ ہیں:

اس طرح حروف کی قدریں 1 سے شروع ہو کر 1000 تک پہنچتی ہیں، اور ہر دس حروف کا ایک گروہ اکائیوں، دہائیوں اور سینکڑوں کی ترتیب میں چلتا ہے۔

نام کا ابجد کیسے نکالا جاتا ہے؟

کسی نام یا لفظ کا ابجد نکالنے کے لیے، اس کے ہر حرف کی عددی قدر کو الگ الگ نکال کر جمع کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر لفظ "علی" میں تین حروف ہیں: ع (70) + ل (30) + ی (10) = 110۔ اسی طرح کسی بھی نام یا فقرے کا مجموعی ابجد اسی طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

اعرابی حروف اور ان کا معاملہ

ابجد کے حساب میں عام طور پر صرف بنیادی حروف شمار کیے جاتے ہیں، جبکہ زیر، زبر، پیش جیسی اعرابی علامات کو شمار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح ہمزہ (ء) والے حروف — جیسے آ، أ، إ — کو عام طور پر الف کی قدر (1) کے برابر شمار کیا جاتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باریکیاں حساب کو درست رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

اردو کے اضافی حروف

چونکہ اردو زبان میں کچھ ایسے حروف بھی شامل ہیں جو خالص عربی حروفِ تہجی میں موجود نہیں (جیسے پ، چ، ٹ، ڈ، ڑ، گ، ں)، اس لیے روایتی عاملین انہیں ان کے قریب ترین عربی ہم آواز حرف کی قدر دیتے ہیں۔ مثلاً "پ" کو "ب" کے برابر اور "چ" کو "ج" کے برابر شمار کیا جاتا ہے۔ اس طرح اردو نام بھی بغیر کسی رکاوٹ کے ابجد کے حساب میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

ابجد کا استعمال کہاں کہاں ہوتا ہے؟

ابجد صرف علم جعفر تک محدود نہیں، بلکہ اسے مختلف روحانی اور علمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے:

ابجد اور جدید نمبرولوجی میں فرق

بعض لوگ ابجد کو مغربی نمبرولوجی (numerology) سے ملا کر دیکھتے ہیں، لیکن دونوں کی بنیاد مختلف ہے۔ مغربی نمبرولوجی رومن حروفِ تہجی اور مختلف جدید نظریات پر مبنی ہے، جبکہ ابجد ایک قدیم اسلامی و عربی روایت ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی اسلامی تہذیب میں پیوست ہیں۔ اگرچہ دونوں میں حروف کو اعداد سے جوڑنے کا تصور مشترک ہے، لیکن ان کا طریقہ کار اور روحانی پس منظر یکسر مختلف ہے۔

ابجد کبیر اور ابجد صغیر

روایتی حساب میں ابجد کے دو بڑے نظام رائج ہیں: "ابجد کبیر" اور "ابجد صغیر"۔ ابجد کبیر میں حروف کی مکمل اصل عددی قدر استعمال کی جاتی ہے (جیسے غین = 1000)، جبکہ ابجد صغیر میں بڑے اعداد کو مزید تقسیم کر کے چھوٹی اکائیوں میں لایا جاتا ہے (مثلاً 1000 کی بجائے صرف 1 شمار کیا جاتا ہے)۔ علم جعفر کے زیادہ تر روایتی طریقوں میں ابجد کبیر ہی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ یہ زیادہ تفصیلی اور دقیق نتائج فراہم کرتا ہے۔

پورے ابجد جدول کی مکمل فہرست

مکمل ابجد جدول درج ذیل ہے، جو ہر عربی حرف کی روایتی عددی قدر ظاہر کرتا ہے: ا=1، ب=2، ج=3، د=4، ہ=5، و=6، ز=7، ح=8، ط=9، ی=10، ک=20، ل=30، م=40، ن=50، س=60، ع=70، ف=80، ص=90، ق=100، ر=200، ش=300، ت=400، ث=500، خ=600، ذ=700، ض=800، ظ=900، غ=1000۔ اس ترتیب کو "ابجد ہوز حطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ" کے مشہور جملے کی صورت میں یاد رکھا جاتا ہے، جو دراصل انہی 28 حروف کی روایتی ترتیب کو ایک قابلِ حفظ شکل میں پیش کرتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا اردو کے اضافی حروف (جیسے ٹ، ڈ، ڑ) کی بھی ابجد قدر ہے؟

جواب: چونکہ ابجد نظام خالص عربی حروفِ تہجی پر مبنی ہے، اردو کے وہ حروف جو عربی میں موجود نہیں (جیسے ٹ، ڈ، ڑ، ژ کے علاوہ)، ان کی الگ روایتی قدر متعین نہیں۔ عام طور پر انہیں قریب ترین عربی حرف کے برابر شمار کیا جاتا ہے۔

سوال: کیا ایک ہی نام کا ابجد عدد ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے؟

جواب: جی ہاں، چونکہ ہر حرف کی قدر فکسڈ ہے، اس لیے ایک ہی نام کا ابجد عدد ہمیشہ ایک جیسا نکلے گا، خواہ اسے کوئی بھی حساب کرے۔

سوال: کیا ہمزہ اور تشدید کی بھی الگ قدر ہوتی ہے؟

جواب: عام طور پر ہمزہ کو الف کے برابر شمار کیا جاتا ہے، اور تشدید والے حرف کو عام طور پر ایک ہی بار شمار کیا جاتا ہے، دو بار نہیں، تاہم اس بارے میں مختلف روایتی مکاتب فکر میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے۔

ابجد نظام کی تاریخی اصل

ابجد کی یہ ترتیب دراصل قدیم فونیقی اور آرامی رسم الخط سے ماخوذ سمجھی جاتی ہے، جہاں حروف کو انہی کی روایتی ترتیب کے مطابق عددی قدر دی جاتی تھی۔ عربی زبان میں اسلام سے پہلے کے دور میں بھی یہ نظام رائج تھا، اور بعد میں اسے مختلف روحانی اور علمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا، جن میں علم جعفر، وفق نویسی اور تعویذات کی روایت بھی شامل ہے۔ یہ نظام آج بھی عربی، فارسی اور اردو بولنے والے علاقوں میں تاریخ کے سنین لکھنے اور شاعری میں تاریخ گوئی (مادہ تاریخ) کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جہاں شاعر کسی اہم واقعے کے سن کو ایک بامعنی جملے کے حروف کے مجموعی ابجد عدد میں پوشیدہ کر دیتے تھے۔

نتیجہ

ابجد کا نظام علم جعفر کی بنیاد ہے، اور اسے سمجھے بغیر اس علم کی گہرائی تک پہنچنا ممکن نہیں۔ حروف کی یہ قدیم عددی ترتیب صدیوں سے روحانی رہنمائی، نام کی مناسبت، اور مختلف تجزیوں کے لیے استعمال ہوتی آ رہی ہے۔ آج جدید نظام یہ سارا حساب خودکار طریقے سے کر دیتے ہیں، لیکن اس کی روایتی بنیاد ویسی ہی قائم ہے جیسی صدیوں پہلے تھی۔