علم جعفر کوئی نیا یا حالیہ رجحان نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی علم ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی اسلامی روایت میں پیوست ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس علم کی تاریخی پس منظر، اس کے ارتقاء، اور برصغیر میں اس کی مقبولیت پر روشنی ڈالیں گے۔
اسلام سے پہلے کے دور میں بھی عرب معاشرے میں حروفِ تہجی کو اعداد کے طور پر استعمال کرنے کا رواج موجود تھا۔ ابجد کی ترتیب، جو آج بھی علم جعفر کی بنیاد ہے، اسی قدیم روایت کی یادگار ہے۔ اس دور میں لوگ تاریخیں، حساب کتاب اور اہم واقعات کو یاد رکھنے کے لیے حروف کی عددی قدروں کا استعمال کرتے تھے۔
اسلام کے آنے کے بعد، عربی زبان اور اس کے حروف کو ایک نئی روحانی اہمیت حاصل ہوئی، کیونکہ قرآن کریم اسی زبان میں نازل ہوا۔ اسی دور میں مختلف علماء اور صوفیاء نے حروف کے علم (علم الحروف) پر تفصیلی کام کیا، اور ابجد کے حساب کو روحانی تجزیے کے لیے استعمال کرنے کی روایت مزید مستحکم ہوئی۔ علم جعفر بھی اسی وسیع روایت کی ایک شاخ کے طور پر ابھرا۔
روایتی طور پر اس علم کا نام حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے جوڑا جاتا ہے، جو اپنے علم و حکمت کے لیے مشہور تھے۔ اگرچہ تاریخی طور پر اس نسبت کی صحت پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، اور بہت سے محققین اسے محض روایتی نسبت سمجھتے ہیں، لیکن صدیوں سے یہ نام اسی طرح رائج چلا آ رہا ہے۔ یہ نسبت اس علم کو ایک خاص عزت اور اعتبار بھی عطا کرتی ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں اسلامی تعلیمات کی آمد کے ساتھ ہی مختلف روحانی علوم بھی یہاں پہنچے، اور علم جعفر بھی انہی میں شامل تھا۔ صوفی بزرگوں اور روحانی عاملین کے ذریعے یہ علم عام لوگوں تک پہنچا، اور رفتہ رفتہ مقامی زبانوں — خاص طور پر اردو — میں اس کی کتابیں اور رسالے لکھے جانے لگے۔
صدیوں کے دوران علم جعفر پر کئی روایتی کتابیں تحریر کی گئیں، جن میں حروف کے معانی، ابجد کے حساب، اور مختلف تقسیموں کے اصول تفصیل سے بیان کیے گئے۔ یہ کتابیں نسل در نسل روحانی عاملین اور ان کے شاگردوں کے درمیان منتقل ہوتی رہیں، اور یوں یہ علم زندہ رہا۔
بیسویں اور اکیسویں صدی میں، جیسے جیسے مطبوعہ کتابوں اور بعد میں انٹرنیٹ کا دور آیا، علم جعفر بھی عام لوگوں کے لیے کہیں زیادہ قابلِ رسائی ہو گیا۔ پہلے یہ علم صرف مخصوص عاملین یا روحانی بزرگوں تک محدود تھا، لیکن اب کتابوں، رسالوں اور آن لائن ذرائع کے ذریعے عام لوگ بھی اس سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔
آج بھی علم جعفر کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:
تاریخی اور روایتی اہمیت کے باوجود، یہ ضروری ہے کہ علم جعفر کو ہمیشہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور یہ روایتی علم محض ایک رہنما ذریعہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ اسی لیے صحیح نیت، صبر اور اللہ پر توکل کے ساتھ اس سے رہنمائی حاصل کرنا ہی مناسب طریقہ ہے۔
علم جعفر عرب دنیا سے برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ پھیلا۔ سلطنتِ دہلی اور بعد ازاں مغلیہ دور میں روحانی علوم کو خاص سرپرستی حاصل رہی، اور علم جعفر بھی انہی علوم میں شامل ہو کر مقامی زبانوں اور ثقافت کے ساتھ گھل مل گیا۔ فارسی اور بعد میں اردو میں اس علم پر متعدد رسالے اور کتابیں لکھی گئیں، جن میں روایتی طریقہ کار، وظائف اور تشریحات کو محفوظ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں یہ علم اتنا مقبول اور رائج ہے۔
برطانوی دورِ حکومت میں مغربی تعلیم اور سائنسی فکر کے فروغ کے ساتھ روایتی روحانی علوم کو کچھ عرصے کے لیے پسِ منظر میں دھکیل دیا گیا۔ تاہم عوامی سطح پر یہ علم زندہ رہا، خاص طور پر دیہی علاقوں اور مذہبی مدارس سے وابستہ حلقوں میں۔ آزادی کے بعد بھی یہ روایت مختلف عاملین اور روحانی اساتذہ کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی، اگرچہ اسے باضابطہ تعلیمی نظام کا حصہ کبھی نہیں بنایا گیا۔
سوال: کیا علم جعفر کی کوئی مستند تاریخی کتاب موجود ہے؟
جواب: اس موضوع پر کئی روایتی رسالے اور کتب موجود ہیں جو مختلف ادوار میں مختلف علماء اور عاملین نے لکھیں، تاہم ان میں سے کسی ایک کو حتمی یا سب سے مستند نہیں سمجھا جاتا۔
سوال: کیا یہ علم صرف مسلمانوں میں رائج رہا؟
جواب: چونکہ اس کی بنیاد عربی حروف اور اسلامی روحانی تصورات پر ہے، اس لیے یہ بنیادی طور پر مسلم ثقافت اور روایت کا حصہ رہا ہے، اگرچہ اس سے ملتے جلتے حروفی و عددی نظام دیگر مذاہب اور ثقافتوں میں بھی الگ سے پائے جاتے ہیں۔
سوال: کیا آج بھی نئے روایتی رسالے لکھے جا رہے ہیں؟
جواب: جی ہاں، بہت سے روحانی اسکالرز اور عاملین آج بھی اس موضوع پر لکھتے ہیں، اور جدید دور میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ علم ایک نئی نسل تک پہنچایا جا رہا ہے۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ حروف کو عددی قدر دے کر ان سے معنی اخذ کرنے کا تصور صرف اسلامی روایت تک محدود نہیں۔ یہودی روایت میں "گیمیٹریا" کے نام سے ایک ملتا جلتا نظام صدیوں سے رائج ہے، جس میں عبرانی حروف کی عددی قدروں سے تورات کی آیات کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح قدیم یونانی روایت میں بھی "ایسوپسیفی" کے نام سے حروف کی عددی قدروں پر مبنی نظام موجود تھا۔ یہ مماثلتیں ظاہر کرتی ہیں کہ حروف اور اعداد کے درمیان روحانی تعلق تلاش کرنے کی خواہش انسانی تاریخ میں ایک وسیع اور مشترکہ فکری روایت رہی ہے، جس میں علم جعفر اسلامی دنیا کا اپنا منفرد اور مکمل طور پر آزادانہ طور پر تیار شدہ اضافہ ہے، جو اپنی مذہبی اور ثقافتی بنیادوں کے اعتبار سے دیگر نظاموں سے یکسر مختلف ہے۔
بیسویں اور اکیسویں صدی میں جہاں بہت سے روایتی علوم زوال کا شکار ہوئے، وہیں علم جعفر نے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایک نئی زندگی پائی۔ پرنٹنگ پریس کے دور میں اس پر لکھی گئی کتابیں زیادہ لوگوں تک پہنچیں، اور آج انٹرنیٹ کے دور میں یہ علم ویب سائٹس اور موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں تک فوری اور مفت پہنچایا جا رہا ہے، جو کہ اس صدیوں پرانی روایت کے ارتقاء کا ایک نیا اور دلچسپ باب ہے۔
علم جعفر کی تاریخ صدیوں پرانی ہے، جو قدیم عرب کی روایات سے شروع ہو کر اسلامی دور میں پروان چڑھی اور برصغیر میں پھیل کر آج تک زندہ ہے۔ یہ علم وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا، لیکن اس کی بنیادی روح — حروف اور اعداد کے ذریعے روحانی رہنمائی — ہمیشہ ایک جیسی رہی۔