انسانی زندگی میں بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جن میں اکیلے کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، اور دوسروں کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ علم جعفر آثار میں 6 پر تقسیم کا طریقہ یہ معلوم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں دوسروں سے مدد ملنے کا امکان کتنا ہے۔
یہ جاننا کہ آیا کوئی معاملہ اکیلے کوشش سے حل ہوگا یا اس میں دوسروں کی مدد درکار ہوگی، بہت سے فیصلوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ 6 پر تقسیم کا مقصد بالکل یہی ہے — یعنی تعاون اور اشتراک کے امکان کا اندازہ لگانا۔
سائل کے نام، والدہ کے نام، دن اور سوال کے ابجد اعداد کو جمع کر کے مجموعی عدد کو 6 پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ باقی بچنے والا عدد (0 سے 5 تک) نتیجے کی بنیاد بنتا ہے۔
اگر باقی زیادہ ہو تو یہ اس بات کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے کہ دوسروں سے مدد ملنے کا امکان زیادہ ہے — یعنی دوست، رشتہ دار یا ساتھی معاملے میں تعاون کریں گے۔ اگر باقی کم ہو یا صفر ہو، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ سائل کو خود ہی زیادہ محنت اور خودانحصاری سے کام لینا ہوگا۔
یہ تقسیم خاص طور پر ان حالات میں کارآمد ہے جہاں کسی منصوبے، کاروبار یا مقصد کے لیے شراکت داری یا اجتماعی کوشش کی ضرورت ہو۔ مثلاً کوئی نیا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ ہو اور یہ جاننا مقصود ہو کہ آیا شراکت دار ملیں گے، یا کوئی مشکل کام ہو جس میں خاندان یا دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہو۔
اگر نتیجہ مدد ملنے کے امکان کی طرف اشارہ کرے، تو سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے قریبی حلقے سے رابطہ کرے، اپنی ضرورت کو واضح طور پر بیان کرے، اور اعتماد کے ساتھ مدد کی درخواست کرے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرنے کو اہم فضیلت قرار دیا گیا ہے۔
اگر نتیجہ یہ ظاہر کرے کہ فی الحال مدد کا امکان کم ہے، تو اس کا مطلب مایوسی نہیں بلکہ یہ ہے کہ سائل کو زیادہ خودانحصاری، صبر اور مسلسل کوشش سے کام لینا ہوگا۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ انسان کو خود اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا سکھانے کے لیے ایسے حالات پیدا کرتا ہے۔
اس تقسیم کے نتیجے کے ساتھ عام طور پر ایسی دعائیں اور وظائف تجویز کیے جاتے ہیں جو دلوں کی نرمی اور تعاون بڑھانے سے متعلق ہوں۔ مثلاً اللہ کے اسم "یا ودود" (محبت کرنے والا) یا "یا لطیف" (نرمی کرنے والا) کا ورد اس مقصد کے لیے روایتی طور پر تجویز کیا جاتا ہے۔
6 پر تقسیم کو اکثر 10 پر تقسیم (کوشش کا نتیجہ) اور 8 پر تقسیم (قسمت کا رخ) کے ساتھ ملا کر دیکھا جاتا ہے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا کامیابی محض ذاتی کوشش سے ملے گی یا اس میں دوسروں کا تعاون بھی شامل ہوگا۔
سوال: کیا یہ تقسیم بتا سکتی ہے کہ مدد کون کرے گا؟
جواب: نہیں، یہ صرف مدد ملنے کے عمومی امکان کی نشاندہی کرتی ہے، کسی مخصوص شخص کا نام یا شناخت نہیں بتاتی۔
سوال: اگر نتیجہ کم امکان کی طرف اشارہ کرے تو کیا مدد مانگنی ہی نہیں چاہیے؟
جواب: ضرور مانگنی چاہیے۔ کم امکان کا مطلب یہ نہیں کہ مدد بالکل نہیں ملے گی، بلکہ یہ کہ زیادہ محنت اور صبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، جبکہ کوشش اور دعا دونوں جاری رکھنی چاہئیں۔
سوال: کیا یہ تقسیم صرف کاروباری شراکت داری کے لیے استعمال ہوتی ہے؟
جواب: نہیں، یہ خاندانی معاملات، تعلیمی منصوبوں، یا کسی بھی ایسے کام کے لیے استعمال ہو سکتی ہے جہاں دوسروں کے تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہو۔
اسلامی تعلیمات میں تعاون اور خودانحصاری دونوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ ایک طرف قرآن کریم میں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تلقین کی گئی ہے (سورۃ المائدہ، آیت 2)، اور دوسری طرف انسان کو اپنی کوشش اور محنت پر بھی زور دینے کا حکم ہے۔ 6 پر تقسیم کا نتیجہ دراصل سائل کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ موجودہ حالات میں ان دونوں اصولوں میں سے کس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، تاکہ وہ نہ تو ضرورت سے زیادہ دوسروں پر انحصار کرے اور نہ ہی مکمل طور پر تنہا محسوس کرے۔
فرض کریں کوئی شخص ایک نیا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہے اور سوال کرتا ہے: "کیا مجھے کاروبار میں شراکت دار ملے گا؟" اس کے متعلقہ اعداد جمع کر کے 6 پر تقسیم کیا جائے گا۔ اگر نتیجہ زیادہ امکان کی طرف اشارہ کرے، تو سائل کو حوصلہ دیا جائے گا کہ وہ اپنے حلقۂ احباب اور خاندان میں شراکت داری کے بارے میں بات کرے، کیونکہ حالات سازگار معلوم ہوتے ہیں۔ اگر نتیجہ کم امکان کی طرف اشارہ کرے، تو مشورہ دیا جائے گا کہ وہ فی الحال چھوٹے پیمانے پر تنہا کام شروع کرے، اور بعد میں مناسب وقت پر شراکت داری پر غور کرے۔
انسان فطری طور پر ایک سماجی مخلوق ہے، اور بہت سے کامیاب منصوبے دراصل اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ 6 پر تقسیم کا نتیجہ سائل کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اپنے سماجی تعلقات کو مضبوط رکھنا کتنا اہم ہے، کیونکہ مشکل وقت میں یہی تعلقات کام آتے ہیں۔ جو لوگ اپنے تعلقات کو نظر انداز کرتے ہیں، وہ اکثر ضرورت کے وقت خود کو تنہا پاتے ہیں۔ اسی لیے دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا، ان کی مدد کرنا اور احسان کا معاملہ رکھنا ایک روحانی اور عملی دونوں لحاظ سے فائدہ مند عادت سمجھی جاتی ہے۔
بہت سے لوگوں کو دوسروں سے مدد قبول کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، کیونکہ وہ اسے اپنی کمزوری یا انا کے خلاف سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ضرورت کے وقت مدد قبول کرنا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز عمل ہے۔ اگر 6 پر تقسیم کا نتیجہ مدد ملنے کے امکان کی طرف اشارہ کرے، تو سائل کو چاہیے کہ وہ عاجزی کے ساتھ اسے قبول کرے، اور خود بھی مستقبل میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ رکھے، کیونکہ یہی باہمی تعاون کا چکر انسانی معاشرت اور اجتماعی زندگی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، اور اسی سے معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔
یاد رکھیں کہ 6 پر تقسیم کا نتیجہ محض ایک رہنما اشارہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ چاہے نتیجہ کچھ بھی ہو، اپنی کوشش، دعا اور اللہ تعالیٰ پر توکل کو کبھی ترک نہ کریں، کیونکہ یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو ہر معاملے میں کامیابی کی اصل کنجی سمجھے جاتے ہیں۔
6 پر تقسیم کا طریقہ کسی بھی معاملے میں تعاون اور مدد کے امکان کا اندازہ فراہم کرتا ہے۔ یہ سائل کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیا اسے دوسروں سے رابطہ کرنا چاہیے یا خود اپنی محنت اور صلاحیت پر زیادہ بھروسہ کرنا چاہیے، اور دونوں صورتوں میں دعا اور توکل کو نہیں بھولنا چاہیے، کیونکہ حتمی مدد اور توفیق ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، خواہ وہ کسی انسان کے ذریعے ملے یا براہ راست۔