زندگی میں بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حالات ہمارے حق میں جا رہے ہیں، اور بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ ہر طرف رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں۔ علم جعفر آثار میں 8 پر تقسیم کا طریقہ اسی "قسمت کے رخ" کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ جاننا کہ فی الحال حالات سازگار ہیں یا ابھی مزید محنت اور صبر کی ضرورت ہے، انسان کی ذہنی تیاری اور توقعات کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ 8 پر تقسیم کا مقصد بالکل یہی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
سائل کے نام، والدہ کے نام، دن اور سوال کے ابجد اعداد جمع کر کے مجموعی عدد کو 8 پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ باقی بچنے والا عدد (0 سے 7 تک) قسمت کے رخ کی نشاندہی کرتا ہے۔
عمومی اصول کے مطابق، بعض باقی اعداد سازگار حالات، کشادگی اور آسانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ بعض دوسرے اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابھی محنت، صبر اور استقامت کی ضرورت ہے۔ یہ تشریح ہمیشہ سوال کے سیاق و سباق کے ساتھ ملا کر سمجھی جانی چاہیے۔
اسلامی عقیدے میں "قسمت" یا "تقدیر" کا تصور اللہ تعالیٰ کے علم اور فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ کبھی بھی اس کا مطلب نہیں کہ انسان بے بس ہے یا اسے کوشش ترک کر دینی چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دعا تقدیر کو بدل سکتی ہے، اور نیک اعمال، صدقہ اور دعا سے مشکل حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔ اسی لیے 8 پر تقسیم کے نتیجے کو کبھی بھی حتمی یا ناقابلِ تبدیل نہ سمجھا جائے۔
اگر نتیجہ حالات کے سازگار ہونے کی طرف اشارہ کرے، تو یہ ایک اچھا وقت سمجھا جا سکتا ہے کہ اہم فیصلے کیے جائیں، نئے منصوبے شروع کیے جائیں، یا رکے ہوئے کام آگے بڑھائے جائیں۔ تاہم پھر بھی مناسب تدبیر اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
اگر نتیجہ یہ ظاہر کرے کہ ابھی محنت اور صبر کی ضرورت ہے، تو مایوس ہونے کی بجائے اسے ایک آزمائش اور بہتری کا موقع سمجھیں۔ ایسے وقت میں زیادہ دعا، صدقہ، استغفار اور نیک اعمال کا اہتمام کیا جائے، اور صبر کے ساتھ کوشش جاری رکھی جائے۔
عام طور پر اس تقسیم کے نتیجے کے ساتھ کشادگی اور آسانی کے لیے مخصوص وظائف تجویز کیے جاتے ہیں، جیسے اللہ کے اسم "یا فتاح" (کشادگی دینے والا) کا ورد، یا سورۃ الشرح کی تلاوت، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل کے ساتھ آسانی کا وعدہ فرمایا ہے: "بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے" (سورۃ الشرح، آیت 6)۔
8 پر تقسیم کو اکثر 6 پر تقسیم (تعاون کا امکان) اور 10 پر تقسیم (کوشش کا نتیجہ) کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ایک جامع تصویر بن سکے کہ حالات کیسے ہیں، کیا مدد ملے گی، اور کوشش کا کیا نتیجہ نکلے گا۔
سوال: کیا اگر نتیجہ منفی آئے تو اس کا مطلب ہے کہ کوشش کرنا بیکار ہے؟
جواب: ہرگز نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں کوشش اور دعا کو کبھی ترک نہیں کرنا چاہیے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ منفی نتیجہ صرف اس بات کی نشاندہی ہے کہ ابھی زیادہ صبر اور محنت درکار ہے، ناکامی کی حتمی خبر نہیں۔
سوال: کیا قسمت پہلے سے مکمل طور پر لکھی جا چکی ہے؟
جواب: اسلامی عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ازل سے ہے، لیکن انسان کو اختیار اور کوشش کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ دعا اور نیک اعمال سے تقدیر میں تبدیلی کے بارے میں احادیث میں واضح رہنمائی موجود ہے۔
سوال: کیا یہ تقسیم مستقبل کی کوئی مخصوص تاریخ بتا سکتی ہے؟
جواب: نہیں، یہ صرف موجودہ حالات کے رخ کا عمومی اندازہ فراہم کرتی ہے، کسی مخصوص تاریخ یا واقعے کی پیشگوئی نہیں کرتی۔
اسلامی تعلیمات میں توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے۔ ایک معروف حدیث میں ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے اونٹ کو باندھے یا اللہ پر توکل کرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پہلے اسے باندھو، پھر توکل کرو۔" یہی اصول 8 پر تقسیم کے نتیجے پر بھی لاگو ہوتا ہے — چاہے نتیجہ سازگار ہو یا غیر سازگار، عملی تدبیر اور کوشش کبھی ترک نہ کی جائے، اور ساتھ ساتھ دل میں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ بھی رکھا جائے۔
فرض کریں کوئی شخص پوچھتا ہے: "کیا میرا ویزہ منظور ہوگا؟" اس کے نام، والدہ کے نام اور سوال کے اعداد جمع کر کے 8 پر تقسیم کیا جائے گا۔ اگر نتیجہ سازگار ہو، تو سائل کو حوصلہ دیا جائے گا کہ درخواست کا عمل جاری رکھے اور مثبت امید رکھے۔ اگر نتیجہ غیر سازگار ہو، تو مشورہ دیا جائے گا کہ وہ اپنی دستاویزات دوبارہ چیک کرے، صدقہ دے، اور صبر کے ساتھ انتظار کرتے ہوئے متبادل امکانات پر بھی غور کرے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ انسان کا اپنا رویہ اور ردعمل بھی حالات کو متاثر کرتا ہے۔ اگر نتیجہ غیر سازگار ہو اور سائل مایوسی، غصے یا بے صبری کا مظاہرہ کرے، تو یہ رویہ خود بھی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر سائل صبر، شکرگزاری اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھے، تو یہی رویہ بذاتِ خود حالات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے روایتی عاملین اکثر یہ تلقین کرتے ہیں کہ 8 پر تقسیم کے نتیجے کو صرف ایک بیرونی پیشگوئی کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ اپنے اندرونی رویے کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر بھی استعمال کیا جائے۔
روایتی روحانی فکر میں عدد 8 کو توازن اور مکمل چکر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی روایت میں جنت کے آٹھ دروازوں کا ذکر ملتا ہے، جو اس عدد کو کشادگی اور رحمت سے جوڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 8 پر تقسیم کو قسمت اور رزق کے وسیع دائرے سے جوڑا جاتا ہے، جہاں ہر باقی عدد اس دائرے کے کسی مخصوص حصے کی نشاندہی کرتا ہے۔
تجربہ کار عاملین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ 8 پر تقسیم کا نتیجہ حاصل کرنے کے بعد فوری ردعمل دینے کی بجائے کچھ وقت غور و فکر میں گزارا جائے۔ نتیجہ چاہے سازگار ہو یا غیر سازگار، پرسکون رہ کر اگلا قدم سوچنا ہمیشہ بہتر نتیجہ دیتا ہے بہ نسبت جذباتی یا جلد بازی پر مبنی فیصلوں کے، جو اکثر بعد میں شرمندگی اور پچھتاوے کا باعث بنتے ہیں۔
جیسا کہ ہر تقسیم کے ساتھ ہے، 8 پر تقسیم کا نتیجہ بھی محض ایک رہنما اشارہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔
8 پر تقسیم کا طریقہ قسمت کے رخ کا ایک عمومی اندازہ فراہم کرتا ہے، لیکن اسے کبھی بھی حتمی یا ناقابلِ تبدیل نہ سمجھا جائے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق دعا، صدقہ اور نیک اعمال سے حالات میں بہتری ہمیشہ ممکن ہے، اور اصل بھروسہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہیے، جو ہر معاملے کی حقیقی تدبیر کرنے والا ہے۔