علم جعفر آثار، علم جعفر کی دوسری اہم شاخ ہے جو زیادہ تر عددی حساب کتاب پر مبنی ہے۔ اس طریقے میں چار عناصر کو مدنظر رکھا جاتا ہے: سائل کا نام، والدہ کا نام، سوال کرنے کا دن، اور خود سوال کے حروف۔ اس مضمون میں ہم علم جعفر آثار کا مکمل حساب، اس کے پیچھے کارفرما اصول، اور اسے سمجھنے کا آسان طریقہ تفصیل سے بیان کریں گے۔
لفظ "آثار" کا مطلب ہے نشانات یا اثرات۔ اس طریقہ کار میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہر شخص کے نام، اس کی ماں کے نام اور سوال کرنے کے دن میں ایک مخصوص عددی توانائی یا "اثر" پوشیدہ ہوتا ہے، جسے ابجد حساب کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ والدہ کے نام کو خاص طور پر شامل کرنے کی روایتی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ماں کا نسبتی تعلق زیادہ یقینی اور قریبی سمجھا جاتا ہے، جبکہ والد کی نسبت میں روایتی طور پر کچھ ابہام کا امکان تصور کیا جاتا رہا ہے۔
قدم 1: سائل کا مکمل نام لکھ کر اس کا ابجد نکالا جاتا ہے۔
قدم 2: والدہ کا نام لکھ کر اسی طرح اس کا ابجد نکالا جاتا ہے۔
قدم 3: ہفتے کے جس دن سوال کیا جا رہا ہو، اس دن کی مخصوص روایتی عددی قیمت لی جاتی ہے (روایتی طور پر ہر دن کی ایک مقررہ قیمت ہوتی ہے، جیسے اتوار، پیر وغیرہ کی الگ الگ روایتی قدریں)۔
قدم 4: خود سوال کے تمام حروف کا ابجد بھی نکالا جاتا ہے۔
قدم 5: ان چاروں اعداد (نام + والدہ کا نام + دن + سوال) کو آپس میں جمع کیا جاتا ہے۔
قدم 6: حاصل شدہ مجموعی عدد کو 4 پر تقسیم کیا جاتا ہے، اور تقسیم کے بعد جو باقی (remainder) بچتا ہے — یعنی 0، 1، 2 یا 3 — وہی نتیجے کی نوعیت کا تعین کرتا ہے۔
عدد 4 کا انتخاب روایتی طور پر عناصر اربعہ — آگ، پانی، ہوا اور مٹی — سے مناسبت رکھتا ہے۔ روایتی حکماء کا ماننا تھا کہ کائنات کی ہر چیز انہی چار بنیادی عناصر کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے، اسی لیے حساب میں بھی اسی عدد کو بنیاد بنایا گیا تاکہ نتیجہ انہی چار بنیادی نوعیتوں میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کرے۔
روایتی طور پر ہر باقی عدد ایک مخصوص نوعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے:
باقی 0 (یعنی مکمل تقسیم): عام طور پر معاملے کے مکمل یا نتیجہ خیز ہونے کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
باقی 1 (آتشی اثر): جوش، تیزی یا کسی جذباتی وجہ کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
باقی 2 (آبی اثر): نرمی، جذباتی معاملات یا کسی داخلی کیفیت کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
باقی 3 (ہوائی/خاکی اثر): وقتی مشکلات، غیر یقینی صورتحال یا کسی خارجی سبب کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
یہ تعبیرات مختلف روایتی کتب میں تھوڑے فرق کے ساتھ درج ہیں، اور مختلف عاملین اپنی اپنی روایت کے مطابق ان کی تشریح کرتے ہیں۔
یہ طریقہ خاص طور پر ان سوالات کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے جو ذاتی نوعیت کے ہوں — جیسے صحت، رشتے، کاروبار یا گھریلو معاملات سے متعلق سوالات۔ چونکہ اس میں ذاتی نام اور والدہ کے نام کو شامل کیا جاتا ہے، اس لیے اسے زیادہ ذاتی نوعیت کا تجزیہ سمجھا جاتا ہے بہ نسبت علم جعفر اخبار کے، جو صرف سوال کے حروف پر منحصر ہوتا ہے۔
ہماری ویب سائٹ پر آپ اپنا نام، والدہ کا نام اور سوال درج کر کے خودکار طریقے سے علم جعفر آثار کا نتیجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ سسٹم خودکار طور پر دن کی قیمت بھی شامل کر کے مکمل حساب کرتا ہے اور نتیجے کے ساتھ مناسب روحانی حل بھی تجویز کرتا ہے۔
فرض کریں سائل کا نام "احمد" ہے، جس کا ابجد: ا=1، ح=8، م=40، د=4 — مجموعہ 53۔ والدہ کا نام "فاطمہ" ہے، جس کا ابجد: ف=80، ا=1، ط=9، م=40، ہ=5 — مجموعہ 135۔ سوال بدھ کے دن پوچھا گیا، جس کی روایتی قیمت (مثال کے طور پر) 4 ہے۔ سوال کے حروف کا ابجد فرض کریں 62 ہے۔ اب ان چاروں کو جمع کریں: 53+135+4+62 = 254۔ اس عدد کو 4 پر تقسیم کریں: 254 ÷ 4 = 63 باقی 2۔ یعنی باقی عدد 2 آیا، جو روایتی طور پر آبی اثر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ حساب کیسے مکمل کیا جاتا ہے، البتہ اصل عملی حساب میں دن اور حروف کی قیمتیں مخصوص روایتی جدولوں سے لی جاتی ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ علم جعفر آثار سے متعلق مختلف روایتی مخطوطات اور کتب میں دنوں کی قیمتوں اور باقی اعداد کی تعبیرات میں معمولی اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ روایات میں پیر کے دن کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے تو کچھ میں جمعہ کے دن کو۔ اسی طرح باقی اعداد کی تشریح میں بھی مختلف عاملین اپنی اپنی تربیت اور روایت کے مطابق تھوڑا فرق رکھتے ہیں۔ اس ویب سائٹ پر ایک معیاری اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ روایت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
علم جعفر آثار بھی محض ایک روایتی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ حتمی طبی، نفسیاتی یا سنگین معاملات میں متعلقہ ماہرین سے رجوع کرنا ضروری ہے، اور روحانی معاملات میں کسی دیندار اور معتبر عالم سے مشورہ لینا بہتر ہے۔ نتیجے پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے، اسے دعا، صبر اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ ملا کر دیکھنا چاہیے۔
سوال: اگر والدہ کا نام معلوم نہ ہو تو کیا کیا جائے؟
جواب: ایسی صورت میں روایتی طور پر عام مستعمل نام یا سرپرست کا نام استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر بہتر ہے کہ صحیح نام معلوم کر کے حساب کیا جائے تاکہ نتیجہ زیادہ درست ہو۔
سوال: کیا دن بدلنے سے نتیجہ بدل جاتا ہے؟
جواب: جی ہاں، چونکہ دن کی روایتی عددی قیمت حساب میں شامل ہوتی ہے، اس لیے مختلف دن پوچھے گئے ایک ہی سوال کا نتیجہ مختلف آ سکتا ہے۔
سوال: کیا علم جعفر اخبار اور آثار دونوں کا نتیجہ ایک جیسا ہونا چاہیے؟
جواب: ضروری نہیں، چونکہ دونوں طریقے مختلف عناصر پر مبنی ہیں (ایک صرف سوال کے حروف پر، دوسرا نام و دن سمیت)، اس لیے نتائج میں فرق ممکن ہے۔ بعض عاملین دونوں کا موازنہ کر کے زیادہ مضبوط رائے قائم کرتے ہیں۔
پہلے یہ پیچیدہ حساب صرف تجربہ کار عاملین ہی درست طریقے سے مکمل کر پاتے تھے، کیونکہ اس میں کئی مرحلوں پر درست ابجد نکالنا اور درست تقسیم کرنا ضروری ہوتا تھا، اور ایک چھوٹی سی غلطی پورے نتیجے کو بدل سکتی تھی۔ آج جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ حساب خودکار اور فوری طریقے سے مکمل ہو جاتا ہے، جس سے عام لوگوں کے لیے بھی اس روایتی علم تک رسائی آسان ہو گئی ہے، بغیر کسی حساب کی غلطی کے خدشے کے۔ اس کے باوجود یہ ضروری ہے کہ نتیجے کو ہمیشہ ایک رہنمائی کے طور پر لیا جائے، اور کسی بھی اہم فیصلے سے پہلے دعا، استخارہ اور اہل علم سے مشورہ بھی شامل رکھا جائے۔
یہ مضمون معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور روایتی اسلامی علم پر مبنی ہے۔
یہ مضمون صرف عمومی معلومات اور روایتی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے، کسی عالم دین کے مشورے کا متبادل نہیں۔ مکمل تفصیل کے لیے Disclaimer ملاحظہ کریں۔ | ilmejafar.com