عربی زبان کے 28 حروف تہجی میں سے ہر حرف کی ایک مخصوص عددی قیمت ہوتی ہے، جسے "ابجد" کہا جاتا ہے۔ یہ نظام صدیوں سے اسلامی دنیا میں رائج ہے اور روایتی علوم، خاص طور پر علم جعفر، میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مضمون میں ہم ابجد نظام کی تاریخ، اس کی مکمل ترتیب، اس کے روایتی استعمالات، اور علم جعفر میں اس کی اہمیت کو تفصیل سے سمجھیں گے۔
ابجد نظام کی جڑیں قدیم سامی زبانوں سے ملتی ہیں۔ عربی سے پہلے یہ نظام عبرانی اور فینیقی زبانوں میں بھی رائج تھا، جہاں حروف کو اعداد کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ عربی زبان میں یہ نظام اسلام سے پہلے کے دور میں بھی موجود تھا، لیکن اسلامی تہذیب کے فروغ کے ساتھ اسے مزید ترقی اور مقبولیت ملی۔ ابتدائی طور پر اسے تجارتی حساب کتاب، تاریخ نویسی اور خط و کتابت میں استعمال کیا جاتا تھا، کیونکہ اس وقت ہندسوں کا موجودہ نظام (0 سے 9 تک) عام رائج نہیں تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ، خاص طور پر عباسی دور میں جب علوم و فنون کو بے پناہ فروغ ملا، ابجد نظام کو مزید روحانی اور علمی میدانوں میں استعمال کیا جانے لگا۔ صوفیاء اور روحانی علوم کے ماہرین نے اس نظام کو حروف کی روحانی طاقت سمجھنے کے ایک ذریعے کے طور پر اپنایا۔
ابجد کے 28 حروف کو روایتی طور پر آٹھ مخصوص گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جنہیں یاد رکھنے کے لیے آٹھ الفاظ کی شکل دی گئی ہے: ابجد، ہوز، حطی، کلمن، سعفص، قرشت، ثخذ، ضظغ۔ یہ ترتیب یوں ہے:
پہلا گروپ (اکائیاں 1 سے 9 تک):
ا=1، ب=2، ج=3، د=4، ہ=5، و=6، ز=7، ح=8، ط=9
دوسرا گروپ (دہائیاں 10 سے 90 تک):
ی=10، ک=20، ل=30، م=40، ن=50، س=60، ع=70، ف=80، ص=90
تیسرا گروپ (سینکڑے 100 سے 900 تک):
ق=100، ر=200، ش=300، ت=400، ث=500، خ=600، ذ=700، ض=800، ظ=900
چوتھا حرف:
غ=1000
اس ترتیب کو "ابجد کبیر" یا "مشرقی ابجد" کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر مشرقی ممالک (بشمول برصغیر، ایران اور عراق) میں رائج ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور ترتیب بھی پائی جاتی ہے جسے "ابجد مغربی" کہتے ہیں، جو شمالی افریقہ کے کچھ علاقوں میں استعمال ہوتی ہے اور جس میں آخری چھ حروف کی ترتیب قدرے مختلف ہے۔ چونکہ برصغیر میں علم جعفر کی روایت مشرقی ابجد پر مبنی ہے، اسی لیے اس ویب سائٹ پر بھی یہی نظام استعمال کیا جاتا ہے۔
جب کسی لفظ یا جملے کا ابجد نکالنا ہو، تو اس کے ہر حرف کی انفرادی قیمت کو الگ الگ لکھ کر آپس میں جمع کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر لفظ "علم" کا ابجد نکالنے کے لیے: ع=70، ل=30، م=40 — ان تینوں کو جمع کریں تو 70+30+40 = 140 حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی نام، سوال یا جملے کا مجموعی ابجد عدد نکالا جا سکتا ہے۔ اعراب (زیر، زبر، پیش) اور تشدید کو عام طور پر شمار نہیں کیا جاتا، صرف بنیادی حروف کی قیمت لی جاتی ہے۔
مسلم تہذیب میں ایک دلچسپ روایت "تاریخی مادہ" کہلاتی تھی، جس میں کسی اہم واقعے (جیسے کسی عمارت کی تعمیر، کسی بادشاہ کی تاجپوشی، یا کسی کتاب کی تکمیل) کے سن کو ایک بامعنی عربی یا فارسی جملے میں اس طرح چھپایا جاتا تھا کہ اس جملے کے تمام حروف کا مجموعی ابجد اسی سن کے برابر ہو۔ یہ فن اس قدر مقبول ہوا کہ بہت سی تاریخی عمارتوں، مساجد اور کتابوں کے سرورق پر ایسے مادہ تاریخ درج کیے گئے، جو آج بھی تاریخ دانوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ابجد نظام محض ایک روحانی تصور نہیں بلکہ ایک باقاعدہ علمی اور ادبی روایت کا حصہ رہا ہے۔
ابجد نظام کو روایتی طور پر کئی روحانی علوم میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں علم جعفر ہے، جس میں سوالات، ناموں اور تاریخوں کے ابجد اعداد نکال کر ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ علم الحروف، وفق نویسی (اعداد پر مبنی روحانی جدولیں)، اور بعض علاقائی روایات میں بھی ابجد کا استعمال ملتا ہے۔ کچھ روایات میں قرآن کریم کی بعض آیات کے ابجد اعداد کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے، خاص طور پر سورتوں کے آغاز میں آنے والے مقطعات حروف (جیسے الم، یٰسین وغیرہ) کے بارے میں مختلف تفسیری آراء موجود ہیں، جن میں بعض مفسرین نے ابجد سے متعلق بحثیں بھی کی ہیں۔
علم جعفر کے دونوں بڑے طریقے — اخبار اور آثار — مکمل طور پر ابجد اعداد پر ہی قائم ہیں۔ علم جعفر اخبار میں سوال کے حروف کی ترتیب اور ان کی عددی قدر کو ایک خاص گرڈ میں سجایا جاتا ہے، جبکہ علم جعفر آثار میں سائل کے نام، والدہ کے نام اور سوال کے حروف کے ابجد اعداد جمع کر کے 4 پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ دونوں طریقوں میں ابجد اعداد کے بغیر کوئی حساب ممکن ہی نہیں، اسی لیے اس نظام کو سمجھنا علم جعفر کی بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ حروف کو اعداد سے جوڑنے کا تصور صرف اسلامی یا عربی روایت تک محدود نہیں۔ عبرانی زبان میں اسی طرز کا ایک نظام "جیمٹریا" (Gematria) کہلاتا ہے، جو یہودی روحانی روایات میں صدیوں سے رائج ہے۔ یونانی زبان میں بھی حروف کی عددی قیمتیں مقرر تھیں، جنہیں قدیم یونانی فلسفی اور ریاضی دان استعمال کرتے تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی تہذیبوں میں حروف اور اعداد کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش ایک قدیم اور آفاقی رجحان رہا ہے، جس کا اپنا اپنا ثقافتی اور مذہبی پس منظر ہے۔
آئیے ایک عملی مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کریں نام "کریم" ہے۔ اس کے حروف یوں ہیں: ک=20، ر=200، ی=10، م=40۔ ان چاروں اعداد کو جمع کریں: 20+200+10+40 = 270۔ یہی نام کا مکمل ابجد عدد ہے۔ اسی طریقے سے کسی بھی نام، لقب یا جملے کا ابجد نکالا جا سکتا ہے، اور یہی بنیادی حساب علم جعفر کے مزید پیچیدہ طریقہ کار کی اساس بنتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ابجد نظام ایک قدیم، روایتی اور ثقافتی نظام ہے، جدید ریاضی یا سائنس کی طرح تجرباتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ اسے مسلم تہذیب کے علمی اور روحانی ورثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ علم جعفر اور اس سے متعلقہ تمام روایتی طریقے رہنمائی کے ذرائع ہیں، حتمی فیصلے نہیں۔ ہر معاملے میں اصل بھروسہ اور فیصلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہیے۔
سوال: کیا ابجد اعداد ہر عربی رسم الخط والی زبان میں ایک جیسے ہوتے ہیں؟
جواب: بنیادی طور پر ہاں، چونکہ اردو اور فارسی بھی عربی رسم الخط استعمال کرتی ہیں، اس لیے مشترکہ حروف کی قیمت ایک جیسی رہتی ہے۔ البتہ اردو کے چند اضافی حروف (جیسے ٹ، ڈ، ڑ) کی الگ سے کوئی روایتی ابجد قیمت مقرر نہیں، انہیں عام طور پر ان کے قریب ترین عربی حرف کے مساوی شمار کیا جاتا ہے۔
سوال: کیا آن لائن حساب اور روایتی دستی حساب میں کوئی فرق ہوتا ہے؟
جواب: نہیں، اصول بالکل وہی رہتے ہیں، صرف حساب خودکار طریقے سے تیزی سے مکمل ہو جاتا ہے۔
یہ مضمون معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور روایتی اسلامی و ثقافتی علم پر مبنی ہے۔
یہ مضمون صرف عمومی معلومات اور روایتی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے، کسی عالم دین کے مشورے کا متبادل نہیں۔ مکمل تفصیل کے لیے Disclaimer ملاحظہ کریں۔ | ilmejafar.com